عیدِ مباہلہ: اسلام، ولایت اور اہلِ بیتؑ کی عظمت کا عظیم دن

حوزہ/اسلامی تاریخ میں بعض ایام ایسے ہیں جو صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ عقیدہ، ہدایت، ولایت اور حقانیت کے زندہ عنوان ہیں۔ ان ہی مبارک دنوں میں ایک عظیم دن 24 ذوالحجہ کا ہے جسے عیدِ مباہلہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی صداقت، اسلام کی حقانیت اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کے عظیم مقام کو دنیا پر آشکار فرمایا۔

تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی

حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی تاریخ میں بعض ایام ایسے ہیں جو صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ عقیدہ، ہدایت، ولایت اور حقانیت کے زندہ عنوان ہیں۔ ان ہی مبارک دنوں میں ایک عظیم دن 24 ذوالحجہ کا ہے جسے عیدِ مباہلہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی صداقت، اسلام کی حقانیت اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کے عظیم مقام کو دنیا پر آشکار فرمایا۔

عیدِ مباہلہ محض ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ یہ ایمان، ولایت، صداقت، قربِ الٰہی اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی کی تجدید کا دن ہے۔ اس دن رونما ہونے والا واقعہ قرآنِ کریم میں محفوظ ہے اور قیامت تک مسلمانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ رہے گا۔

مباہلہ کا لغوی معنی

عربی زبان میں "مباہلہ" کا لفظ "بَہْل" یا "ابتہال" سے نکلا ہے جس کا معنی ہے:

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ دعا کرنا اور یہ درخواست کرنا کہ جو شخص جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت اور عذاب نازل ہو۔

اصطلاحی طور پر مباہلہ اس عمل کو کہتے ہیں کہ جب دو فریق کے درمیان حق و باطل کا مسئلہ واضح ہو جائے اور دلائل مکمل ہو جائیں، پھر بھی ایک فریق حق قبول نہ کرے تو دونوں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دعا کریں کہ جھوٹے پر خدا کا عذاب نازل ہو۔

نجران کے عیسائیوں کا وفد

ہجرت کے دسویں سال یمن کے مشہور علاقے نجران سے عیسائیوں کا ایک بڑا وفد مدینہ منورہ آیا۔ اس وفد میں عیسائی علماء، پادری اور مذہبی رہنما شامل تھے۔ ان کا مقصد رسولِ خدا ﷺ سے حضرت عیسیٰؑ کی حقیقت کے بارے میں گفتگو کرنا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور سمجھایا کہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، خدا یا خدا کے بیٹے نہیں ہیں۔

عیسائی علماء نے مختلف سوالات اور اعتراضات پیش کیے لیکن رسولِ خدا ﷺ نے قرآن اور عقل کی روشنی میں ان کے تمام اعتراضات کے جواب دیے۔

حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں قرآن کا فیصلہ

جب عیسائی علماء اپنی ضد پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

"بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰؑ کی مثال آدمؑ کی طرح ہے، اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا، پس وہ ہو گئے۔"

اگر باپ کے بغیر پیدا ہونا خدائی کی دلیل ہوتا تو حضرت آدمؑ اس کے زیادہ حقدار ہوتے کیونکہ ان کے نہ والد تھے اور نہ والدہ۔

آیتِ مباہلہ کا نزول

بحث و مباحثہ مکمل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۂ آل عمران کی آیت 61 نازل فرمائی:

فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اگر وہ لوگ حق قبول نہیں کرتے تو انہیں مباہلہ کی دعوت دی جائے۔

میدانِ مباہلہ میں کون آیا؟

24 ذوالحجہ کو جب مباہلہ کا وقت آیا تو مدینہ کے لوگ حیران تھے کہ رسولِ خدا ﷺ کن افراد کو ساتھ لے کر آئیں گے۔

مگر رسولِ اکرم ﷺ صرف چار ہستیوں کو ساتھ لے کر تشریف لائے:

امام حسن مجتبیٰؑ

امام حسینؑ

حضرت فاطمہ زہراؑ

امیرالمؤمنین امام علیؑ

رسولِ خدا ﷺ نے کسی صحابی، قبیلے کے سردار، ازواج یا دوسرے رشتہ داروں کو ساتھ نہیں لیا بلکہ صرف انہی پاکیزہ ہستیوں کو منتخب فرمایا۔

اہلِ بیتؑ کی عظمت کا اعلان

یہ منظر دراصل پوری امت کے لیے ایک اعلان تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے افضل، پاکیزہ اور باعظمت افراد یہی اہلِ بیتؑ ہیں۔

آیتِ مباہلہ میں:

"ابناءنا" سے مراد امام حسنؑ اور امام حسینؑ ہیں۔

"نساءنا" سے مراد حضرت فاطمہ زہراؑ ہیں۔

"انفسنا" سے مراد امیرالمؤمنین امام علیؑ ہیں۔

یہ آیت اہلِ بیتؑ کے مقام و منزلت کا عظیم ترین قرآنی ثبوت ہے۔

عیسائیوں کا خوف اور پسپائی

جب نجران کے عیسائیوں نے ان مقدس چہروں کو دیکھا تو ان کے بڑے عالم نے کہا:

"میں ایسے نورانی چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ اللہ سے دعا کریں تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔ اگر ہم نے ان کے ساتھ مباہلہ کیا تو نہ ہم باقی رہیں گے اور نہ ہماری نسلیں۔"

یہ سن کر عیسائی وفد نے مباہلہ سے انکار کر دیا اور صلح پر آمادہ ہو گیا۔

اس طرح مباہلہ عملاً انجام دیے بغیر ہی اسلام کی حقانیت ثابت ہو گئی۔

واقعۂ مباہلہ کے عقائدی نتائج

1۔ اسلام کی سچائی کا ثبوت

رسولِ خدا ﷺ نے اپنے اہلِ بیتؑ کو خطرے میں ڈال کر یہ ثابت کیا کہ آپؐ کو اپنی صداقت پر کامل یقین تھا۔

2۔ اہلِ بیتؑ کی برتری

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پوری امت میں اہلِ بیتؑ کا مقام سب سے بلند ہے۔

3۔ امام علیؑ کی عظیم فضیلت

آیتِ مباہلہ میں "انفسنا" کے مصداق کے طور پر امیرالمؤمنین امام علیؑ کا انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ آپؑ رسولِ خدا ﷺ کے بعد امت کی عظیم ترین شخصیت ہیں۔

4۔ حضرت فاطمہؑ کا مقام

رسولِ خدا ﷺ نے تمام خواتین میں صرف حضرت فاطمہ زہراؑ کو منتخب فرمایا، جو ان کے بے مثال مقام کی دلیل ہے۔

5۔ امام حسنؑ و امام حسینؑ کی عظمت

رسولِ خدا ﷺ نے انہیں اسلام کے نمائندوں کے طور پر پیش کیا، جو ان کی عظمت اور امامت کی نشانی ہے۔

عیدِ مباہلہ کے اعمال

علمائے اسلام نے اس دن کے لیے متعدد اعمال ذکر کیے ہیں:

غسل

اس دن غسل کرنا مستحب ہے۔

روزہ

24 ذوالحجہ کا روزہ بہت فضیلت رکھتا ہے۔

نماز

دو رکعت نماز بجا لانا مستحب ہے۔

دعا

دعاؤں اور مناجات کا اہتمام کیا جائے۔

صدقہ

ضرورت مندوں کی مدد کی جائے۔

صلوات

کثرت سے درود شریف پڑھا جائے۔

زیارت

اہلِ بیتؑ کی زیارات خصوصاً زیارتِ جامعہ کبیرہ کی تلاوت کی جائے۔

عیدِ مباہلہ کا پیغام

عیدِ مباہلہ ہمیں سکھاتی ہے کہ:

حق ہمیشہ غالب آتا ہے۔

اہلِ بیتؑ ہدایت کے چراغ ہیں۔

دین دلیل اور منطق کا دین ہے۔

خدا پر کامل بھروسہ کامیابی کی کنجی ہے۔

باطل کے سامنے جھکنا مؤمن کی شان نہیں۔

خاندانِ رسولؐ سے محبت ایمان کی علامت ہے۔

اتحادِ امت کی بنیاد قرآن اور اہلِ بیتؑ ہیں۔

اختتامی کلمات

عیدِ مباہلہ درحقیقت اہلِ بیتؑ کی عظمت، اسلام کی حقانیت، رسولِ اکرم ﷺ کی صداقت اور ولایتِ علویؑ کے اعلان کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہدایت کا راستہ وہی ہے جو رسولِ خدا ﷺ اور ان کے اہلِ بیتؑ نے دکھایا۔

آج کے دن ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اہلِ بیتؑ کی محبت کو اپنے دل میں مزید مضبوط کرے، ان کی سیرت کو اپنائے اور اسلام کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگی میں نافذ کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha